سہیل آفریدی کی نااہلی کا کیس نمٹا دیا گیا، وفاقی آئینی عدالت نے درخواست غیر مؤثر قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق دائر درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ صورتحال میں درخواست پر مزید کارروائی کی گنجائش نہیں رہی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی اس وقت وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز نہیں ہیں، اس لیے معاملہ اب محض ایک قانونی سوال تک محدود ہوچکا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے تو درخواست گزار شیر افضل مروت درخواست کی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو بھی عدالت میں چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سہیل آفریدی کے خلاف درخواست پر مختصر مہلت دینے کی استدعا بھی کی۔اس پر جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ الگ معاملہ ہے،۔
جبکہ موجودہ حالات میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف دائر درخواست قابلِ سماعت فعال معاملہ نہیں رہی۔شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ اگر گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہوگئی تو سہیل آفریدی دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوسکتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ فی الحال سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہیں ہیں، تاہم ان کی بحالی کی صورت میں درخواست گزار دوبارہ درخواست دائر کرسکتے ہیں۔عدالت نے ان ریمارکس کے بعد سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹانے کا فیصلہ سنا دیا۔
واضح رہے کہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ علی امین گنڈاپور سے مبینہ طور پر زبردستی لیا گیا استعفیٰ اور سہیل آفریدی کی تقرری غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کی جائے، جبکہ علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.