عدالتی نظام کا جمود: ریاست ازخود سزائیں دینے کے بجائے فوری انصاف کے لیے لائحہ عمل بنائے، سعد رفیق
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے تجویز دی ہے کہ سنگین ترین کیسز کی فوری سماعت اور جلد فیصلے یقینی بنانے کے لیے حکومت اور عدلیہ کو مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ایک خصوصی بیان میں انہوں نے زور دیا کہ سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ شفاف اور تیز ترین قانونی کارروائی (فیئر ٹرائل) کے ذریعے سزائیں سنانا صرف عدلیہ کا اختیار ہے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف کا نظام شدید بحران اور تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ مقدمات کے فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر اور رکاوٹوں کے باعث نہ تو متاثرین کی داد رسی ہو رہی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی تحفظ میسر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عام شہریوں کو عدالتوں سے بروقت انصاف نہ ملنے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے خود ہی جج اور جیوری کا کردار ادا کرنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں بغیر کسی قانونی و عدالتی طریقہ کار کے سزائیں دینے کا عمل تیزی سے پھیل رہا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے نتائج سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اگر ایک فعال اور مضبوط نظامِ عدل نہ بنایا گیا تو یہ سلسلہ صرف اداروں کے ماورائے عدالت اقدامات تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ہر بااثر شخص خود قانون ہاتھ میں لے لے گا اور گلی محلوں اور چوک چوراہوں پر اپنی عدالتیں قائم ہونے لگیں گی۔ اس بھیانک اور خوفناک وقت سے پہلے ہی معاملات کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.