سندھ میں نئے صوبے کی بحث ختم، سندھ اسمبلی اپنا فیصلہ دے چکی ہے: بلاول بھٹو
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی جانب سے 28ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے معاملے پر سندھ اسمبلی اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نئے صوبے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے۔ سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے اس حوالے سے اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں، ۔
جبکہ صوبے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف سندھ کے عوام کو حاصل ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیاست دانوں کو عوام کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کے بجائے اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ میں کراچی کی نمائندگی کرنے والے افراد نے شہر کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا، جبکہ وفاقی حکومت بھی کراچی کے مسائل حل کرنے میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لے رہی۔بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو کراچی کے معاملات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی ادارے باہمی تعاون سے کام کریں تو شہر کے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی مشکلات کم کرنا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھنے سے شہریوں پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
، جبکہ سندھ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں میں اضافے کے باعث عام شہریوں کے لیے ادائیگیاں مشکل ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے لیاری کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت علاقے کے عوام کو سولر انرجی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.