ایران کا خلیجی ممالک سے تعاون بڑھانے پر زور، علاقائی سلامتی کیلئے غیر ملکی فوجی موجودگی کی مخالفت
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے ساتھ کوئی اختلاف یا دشمنی نہیں، بلکہ تہران خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے قطر اور عمان کی جانب سے سفارتی سطح پر ادا کیے جانے والے مثبت کردار کو بھی سراہا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے، جس کی قیادت خود خطے کے ممالک کے پاس ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی کے معاملات میں بیرونی طاقتوں کی فوجی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور خطے کے ممالک کو اپنے دفاع اور سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے چاہئیں۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایران پر حملے کیے تو تہران بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کا ردعمل صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے سے باہر بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
عباس عراقچی کے علاقائی تعاون سے متعلق بیان اور ایرانی عہدیدار کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سفارتی کوششوں اور فوجی کشیدگی دونوں کا سلسلہ جاری ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.