ہندوستانی مسلمان تیار نہیں ہیں: مکتوب ہندوستان دھا نجنے مہا پتر - Baithak News

ہندوستانی مسلمان تیار نہیں ہیں: مکتوب ہندوستان دھا نجنے مہا پتر

“حجاب” پر چل رہے تنازعے کے دوران چیف منسٹر اتر کھنڈ نے کئی ایک لوگوں کو اور زیادہ پریشان کردیا جب انھوں نے یہ کہا کہ اگر عوام نے بی جے پی کو الیکشن میں دوبارہ جتوایا تو وہ “یکساں سول کوڈ” کو نافذ کرے گی ۔ 1988ءمیں اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں عام چناو¿ کے دوران تین وعدوں کے ساتھ ووٹ مانگے تھے۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ، رام مندر کی ایودھیا میں تعمیر اور یکساں سول کوڈ کا نفاذ۔ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی نے 13 جماعتوں کے اتحاد این ڈی اے کی قیادت کرتے ہوئے حکومت بنائی۔ بی جے پی اکثریت نہ ہونے کے سبب ان تینوں وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔لیکن بی جی پے نے اپنے دوسرے دور حکومت میں اگست 2019 میں جموں و کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کردیا ۔ نومبر 2019ءمیں سپریم کورٹ نے ایودھیا کے مقام پر ہندو¿ں کو “رام مندر” تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔ اب بی جے پی کے سامنے 25 سال پہلے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے وعدے کو پورا کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔
یو سی سی تنازع 70 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ دستور ساز اسمبلی میں اس پر شدید بحث ہوئی۔ دستور کے آرٹیکل 35 کے مسودے (جو منظور شدہ آئین میں آرٹیکل 44 بن گیا) میں کہا گیا ہے: “ریاست شہریوں کے لئے ہندوستان کے پورے علاقے میں یکساں سول کوڈ کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے گی۔”
تو مسلم نمائندوں نے اس کی مخالفت کی اور ایک غیر ہٹ دھرمی کی شق شامل کرنا چاہتے تھے – “بشرطیکہ اس مضمون میں کوئی چیز شہری کے ذاتی قانون کو متاثر نہ کرے۔”
کمیونٹی یو سی سی کے لئے تیار نہیں ہے’ یہ دلیل مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے نامور وکیل اور مسلم لیگ کے رکن نذیر الدین احمد کی طرف سے سامنے آئی۔ انہوں نے کہا، “برطانوی حکومت کے 175 سالوں کے دوران انہوں نے کبھی سول کوڈ میں مداخلت نہیں کی ہے۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مرحلہ آئے گا جب شہری قانون یکساں ہوگا لیکن پھر وہ وقت ابھی تک نہیں آیا ہے۔ مقصد یکساں سول کوڈ کی طرف ہونا چاہئے لیکن یہ بتدریج اور متعلقہ لوگوں کی رضامندی سے ہونا چاہئے۔ ”
اصلاح پسندوزیراعظم نہرو نے 1955ءمیں ہندو¿ کوڈ بل کے ذریعے سے ہندو¿ پرسنل لاز کو منضبط کرنے کی کوشش کی۔ توقع کے مطابق ہندو¿ اراکین پارلیمنٹ نے یہ پوچھ کر اس قانون کی مخالفت کی کہ ہندو¿ں کو ہی کیوں الگ کرکے یہ کیا جائے اور مسلمانوں اور مسیحیوں کے پرسنل لاز کو بھی کیوں نہ منضبط کیا جائے؟
مسلم پرسنل لاز کی طرح مروجہ سیکولر قدامت پسندی کے رویے نے نہرو نذیر الدین احمد کا بہانہ فراہم کردیا۔ “مسلمان برادری تیار نہیں ہے”۔ بی جے کرپلانی نے بہت تلخ اور صاف صاف طرز کلام اختیار کیا۔ اس نے نہرو کا مذاق اڑیا اور کہا،”یہ ہندو¿ مہاسبھا ہی نہیں جو اکیلے فرقہ پرست ہیں بلکہ یہ حکومت بھی ہے جو فرقہ پرست ہے، چاہے وہ جو بھی کہتی پھرے، میں آپ پر فرقہ پرستی کا الزام لگاتا ہوں کیونکہ آپ صرف ہندو¿ برادری کے لیے یک زوجیت کا قانون لارہے ہیں۔ مجھ سے ضمانت لے لیں مسلم برادری بھی اس کے لیے تیار ہے لیکن آپ میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہندو¿ برادری کے پاس بھی طلاق کا حق ہو تو پھر اسے کتھولک برادری کے لیے بھی ہونا چاہیے”
یو سی سی پہ نہروائی تذبذب جاری و ساری ہے کیونکہ مسلم ملاں کو اشعال انگیز بیان بازی میں مہارت ہے۔”اگر آپ یہ کرتے ہیں تو اس سے ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے۔ اگر آپ وہ نہیں کرتے تو ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے” اس سے کبھی نہ ختم ہونے والا سٹیٹس کو بنا ہوا ہے۔کئی عشروں سے سپریم کورٹ یو سی سی پر سیاسی طبقے کے منجمد پاو¿ں کا ٹھٹھہ اڑا رہی ہے۔ جبکہ حکومتیں آرٹیکل 44 میں آئین بنانے والوں کی امیدوں کے حصول کے لیے ادھر ادھر ہچکولے کھاتی رہی ہیں ۔ ہندو¿ پرسنل لاز کی ضابطہ بندی کے کئی عشروں بعد سپریم کورٹ نے بیگم شاہ بانو کیس میں فیصلہ دیا کہ فوجداری ضابطہ کوڈ کی 125 شق کے مطابق ایک مطلقہ مسلم عورت جب تک وہ اگے شادی نہ کرے نان نفقہ دینا ہوگا۔مسلم ملاو¿ں نے راجیو گاندھی کی حکومت پہ اپنے اثر ورسوخ کے سبب تحفظ حقوق طلاق برائے مسلم خواتین ایکٹ 1986 کا نفاذ کرواکے سپریم کورٹ کے حکم کو کاغذی فیصلہ بنا ڈالا تھا۔
سپریم کورٹ نے دباو¿ قبول نہ کرتے ہوئے فیصلے دیے جانا جاری رکھے۔ دانیال لطیفی کیس 2001 ء، اقبال بانو کیس 2007ء،شاہ بانو کیس 2009ءمیں پھر فیصلہ سنایا کہ مسلم خواتین کو سیکشن 125 کے فوائد سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔
شاہ بانو کیس میں، سپریم کورٹ نے 1985ءمیں قرار دیا،”ایک کامن سول کوڈ باہم متضاد نظریات رکھنے والے قانون سے مختلف وفاداریوں کو ختم کرکے قومی اتحاد میں مدد کرے گا”سرلا مڈگل کیس میں سپریم کورٹ نے 1995ءمیں کہا،” جہاں 80 فیصد سے زیادہ شہری پہلے ہی ضابطہ بند سول کوڈ کے تحت ہیں تو ایسے میں اس طرح کا استثنا رکھنا جس سے تھوڑا سا حصّہ ہندوستان میں تمام شہریوں کے لیے بنائے گئے یکساں سول کوڈ سے باہر رہے کا کوئی جواز نہیں ہے”۔
ان جان ولاماٹم کیس 2003ءمیں سپریم کورٹ نے آئین میں آرٹیکل 44 کے تحت مقرر کردہ ہدف کے حصول کی خواہش پر روشنی ڈالی لیکن وہی نہروائی استدلال ابھی تک دہرایا جارہا ہے کہ مسلمان برادری تیار نہیں ہے۔
(دھانجنے مہاپتر ہندوستان میں 25 سال سے جرنلزم کررہے ہیں۔ 20 سال ان کی کورٹ بیٹ رہی ہے)

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں