سیلاب کے پیشِ نظر 20 ارب روپے کے زرعی قرضے ایک سال کیلئے موخر کرنے کا اصولی فیصلہ - Baithak News

سیلاب کے پیشِ نظر 20 ارب روپے کے زرعی قرضے ایک سال کیلئے موخر کرنے کا اصولی فیصلہ

زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ نے فصلوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنے والے بدترین سیلاب کے پیش نظر زراعت کے شعبے سے وابستہ 57 ہزار سے زائد خاندانوں کی مدد کے لیے 20 ارب روپے تک کے زرعی قرضوں کو ایک سال کے لیے موخر کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر زرعی ترقیاتی بینک محمد شہباز جمیل نے کہا کہ بینک نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ تقریبا 4 ارب روپے کے اس سود کی فنڈنگ کیلئے کوئی راستہ تلاش کرے جو ان کسانوں پر اس مدت کے دوران واجب الادا ہو جائے گا جن کی فصلیں ڈوب چکی ہیں یا مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔
یہ فیصلہ قرض میں ریلیف کا سبب بن سکتا ہے جسے حکومت ملک بھر کے کسانوں کو فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم اس کا حتمی فیصلہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی منظوری پر منحصر ہے۔ایک اندازے کے مطابق سندھ میں کپاس کی فصل کے تقریبا 65 فیصد حصے کو نقصان پہنچا، اس کے بعد پنجاب کے 15 فیصد حصے کو نقصان پہنچا، مجموعی طور پر پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق کپاس کی تقریبا 35 فیصد فصل ضائع ہوئی۔
توقع کی جا رہی ہے حکومت کی جانب سے تمام بینکوں کے ذریعے تقریبا 100 ارب روپے مالیت کے زرعی قرضے موخر کرنے کی سہولت فراہم کی جائیگی جس کے لیے اسے سود پر سبسڈی کے عوض تقریبا 20 ارب روپے فراہم کرنے ہوں گے۔اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے وفاقی حکومت کو ملنے والے منافع سے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے، آئی ایم ایف کی رضامندی سے حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے لیے ایک سال کا اضافہ معاف کر دے گی۔
محمد شہباز جمیل نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کے 90 فیصد صارفین کے پاس 12.5 ایکڑ سے کم اراضی ہے اور وہ غریب ترین کسانوں میں سے ہیں، حکومت نے ایک سال (جولائی 2020 سے جون 2021) کے لیے 80 فیصد مارکیٹ کے اخراجات برداشت کرکے کورونا وبا کے دوران بھی اس طبقے کی مدد بھی کی۔انہوں نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک پہلے ہی اپنے خالص منافع کا 10 فیصد سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کر چکا ہے
خسارے میں چلنے والے اس سرکاری ادارے کو برسوں بعد منافع بخش بناتے ہوئے رواں سال جون میں زرعی ترقیاتی بینک نے 51 کروڑ 40 لاکھ روپے کا منافع بعد از ٹیکس ادا کیا۔زرعی ترقیاتی بینک نے اس تبدیلی کی وجہ چیک اینڈ بیلنس کے ذریعے بہتر اندرونی نگرانی اور اپنے آپریشنز کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کو قرار دیا۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں ریکوری میں بہتری آئی اور فنڈز کی واپسی ہوئی کیونکہ فیلڈ اسٹاف کی سخت نگرانی کی گئی، انتظامیہ نے ایڈجسٹمنٹ قرضے پر توجہ مرکوز کی اور 2 سال کے لیے اضافہ روک دیا اسی عملے کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ خود ان فائلوں کو بازیافت کریں اور ان فنڈز کو واپس لائیں، اس کی ترغیب کے لیے ریکوری پر 10 فیصد انعام بھی رکھا گیا۔
بیرونی آڈیٹرز کا تصور نجی بینکوں کی طرز پر متعارف کرایا گیا اور 31 میں سے 20 زونز کا آڈٹ اے کلاس آڈٹ فرموں نے کیا۔نتیجتا اسپیشل ایسٹ مینجمنٹ (ایس اے ایم)کی ریکوری جون 2021 میں 2 ارب 90 کروڑ روپے تک پہنچ گئی اور رواں سال جون میں 4 ارب 10 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جوکہ جون 2019 میں 60 کروڑ 70 لاکھ روپے اور جون 2020 میں 66 کروڑ تھی۔

بھارتی طیارے میں اڑان بھرنے کی تیاری کے دوران آگ لگ گئی

Shakira could face 8 years in jail

عمران خان کی ڈھابوں سے کھانا کھاتے ویڈیوز وائرل

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں