بھارتی جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، تاہم سزائے موت بھی دی گئی تو اسے قبول کریں گے، لیکن اس کا مطلب اپنے خلاف عائد الزامات یا جرائم کا اعتراف نہیں ہوگا۔
یاسین ملک نے حلف نامے میں اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ عدالت نے ان کے 24 اگست کے تحریری بیانات کو بھی شہادت کا حصہ قرار دیا ہے۔حریت رہنما کے مطابق بھارتی حکومت نے انہیں کئی برس بعد ایک مقدمے میں ملوث کرکے پھانسی دینے کی سازش کی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کشمیر کی آزادی کے لیے جان دینے پر آمادگی کا بھی اظہار کیا۔حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کا بھی ذکر کیا اور طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے انہیں آزاد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے مشعال ملک سے مخاطب ہوکر کہا کہ انہوں نے بہادری کے ساتھ ان کا ساتھ دیا، تاہم اب وہ انہیں اپنی رفاقت سے آزاد کرتے ہیں۔یاسین ملک نے اپنی بیٹی کو دادی سے رابطہ برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنی دادی کا غم کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔