اسلام آباد: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ ایک حالیہ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کی آن لائن اور بعض آف لائن سرگرمیوں سے وسیع پیمانے پر ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ مختلف ایپلی کیشنز کو صارفین کی براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن، کانٹیکٹس، فائلز، میڈیا، مائیکروفون اور دیگر معلومات تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
، جبکہ یہ اجازتیں عموماً “Accept” یا “Allow” پر کلک کرنے کے ذریعے دی جاتی ہیں۔بیان کے مطابق عام صارف کو اکثر یہ مکمل اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی ایپ کو اجازت دینے کے بعد اس کے ڈیٹا تک کس حد تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ایپس مختلف اجازتوں کے ذریعے صارف کی لوکیشن، رابطہ نمبرز، میڈیا فائلز اور دیگر معلومات تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود معلومات کو الگورتھمز کے ذریعے صارفین کی سیاسی، مذہبی اور ذاتی ترجیحات کا اندازہ لگانے کے لیے بھی استعمال کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ویڈیو میں فیس بک اور انسٹاگرام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کے علاوہ ڈیوائس سے متعلق معلومات، ایپ کے استعمال کے طریقہ کار اور لوکیشن سگنلز سمیت مختلف نوعیت کا ڈیٹا جمع کرسکتے ہیں۔
اسی طرح گوگل کی سروسز کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صارفین کی سرچ سرگرمیوں اور طویل مدتی لوکیشن ہسٹری کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے، جو بعض معاملات میں کئی برس تک محیط ہوسکتی ہے۔بیان میں فیس بک کے ڈاؤن لوڈز کی تعداد اربوں میں ہونے کا بھی ذکر کیا گیا اور اس حوالے سے سوال اٹھایا گیا کہ ایک ہی اکاؤنٹ یا ایپ متعدد ڈیوائسز پر استعمال ہونے کی صورت میں صارفین کا ڈیٹا کس حد تک مختلف پلیٹ فارمز اور ڈیوائسز تک پھیل سکتا ہے۔
ڈیجیٹل ڈیٹا کو موجودہ دور کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے ماہرین نے صارفین کو ایپس کو اجازت دیتے وقت پرائیویسی سے متعلق شرائط اور رسائی کی نوعیت کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔