اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج کے سلسلے کو مستقل طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت کسی بھی گروہ کو احتجاج کی غرض سے اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ اگر احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال کیا گیا تو 9 مئی کے بعد فراہم کی جانے والی تمام سہولتیں واپس لے لی جائیں گی۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ اور دھرنوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیادت میں ہمت ہے تو لانگ مارچ کر کے دکھائے۔ ان کا الزام تھا کہ دہشتگردوں کی مبینہ سہولت کاری تحریک انصاف کی پالیسی کا حصہ ہے اور خیبر پختونخوا حکومت افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کی سہولت کاری کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف ٹی ٹی پی کی ’بی ٹیم‘ اور ٹی ٹی اے کی ’سی ٹیم‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔عطا اللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ سے زیادہ کالعدم تنظیم کے کمانڈر نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق غیر قانونی مائننگ کے ذریعے دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ اس کے باوجود متعلقہ عناصر خود کو سیاسی جماعت قرار دیتے ہیں۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔