واشنگٹن: امریکی انٹیلی جنس حکام کی جانب سے کانگریس کو پیش کی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا آپشن اب بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر مالیت کے سول نیوکلیئر معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے پر امریکی کانگریس میں شدید بحث اور اختلافات جاری ہیں، جبکہ معاہدہ اس وقت 90 روزہ جائزے کے مرحلے سے بھی گزر رہا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں سعودی عرب کے جوہری پروگرام اور مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ممکنہ آپشن سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے۔