ملک بھر میں بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر نرخ بڑھنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ کے الیکٹرک سمیت دیگر صارفین سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافی رقم وصول کیے جانے کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اگست کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی ہے۔
نیپرا کی جانب سے درخواست پر آج سماعت کی جائے گی۔سی پی پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کے دوران ڈسکوز کو مجموعی طور پر 14 ارب 46 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی، جس کی اوسط لاگت 8 روپے 82 پیسے فی یونٹ رہی۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں مجموعی بجلی پیداوار میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 37.84 فیصد رہا، جبکہ مقامی کوئلے سے 10.88 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 15.59 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 2.15 فیصد رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں مقامی گیس سے 7.04 فیصد جبکہ درآمدی ایل این جی سے 8.48 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔نیپرا کی جانب سے سی پی پی اے کی درخواست پر فیصلہ ہونے کے بعد ہی صارفین پر اضافی مالی بوجھ کی حتمی صورتحال واضح ہوگی۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔