لاہور: پنجاب حکومت نے ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے فیلڈ مانیٹرنگ افسران کی سرگرمیوں کی نگرانی اور ٹریکنگ کے لیے باڈی کیم نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ’ستھرا پنجاب‘ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں پروگرام کی پیش رفت اور صفائی کے انتظامات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کی بیشتر تحصیلوں میں ’ستھرا پنجاب‘ کے ورکرز کو بروقت ادائیگیاں مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ڈیجیٹل چالان کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔بریفنگ کے مطابق لاہور میں اینٹی لٹرنگ اسکواڈ نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 2 ہزار 156 چالان کیے، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں کوڑا کرکٹ جمع کرنے کے لیے 37 ہزار 852 مقامات پر ڈسٹ بنز بھی نصب کیے جا چکے ہیں۔اجلاس کے دوران صفائی کی ناقص صورتحال سے متعلق شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اس پر قصور، فیصل آباد اور اوکاڑہ کے مینجنگ ڈائریکٹرز کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ ناقص کارکردگی کی بنیاد پر ہٹائے گئے ایم ڈیز کو آئندہ کسی دوسری پوسٹنگ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔