لاہور: پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 16 مختلف ادویات کے غیرمعیاری، ملاوٹ شدہ یا جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد متعلقہ حکام نے متاثرہ ادویات کی فروخت اور استعمال روکنے کی ہدایت کردی۔لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں میڈیکل اسٹورز سے حاصل کیے گئے ادویات کے نمونوں کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں جانچ کی گئی۔ لیبارٹری رپورٹس میں متعدد ادویات کے مخصوص بیچز کو معیار پر پورا نہ اترنے، ملاوٹ شدہ یا جعلی قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ادویات میں دمہ اور الرجی کی علامات کے لیے استعمال ہونے والی دوا، خون کے لوتھڑے بننے سے روکنے والی دوا، وٹامن بی کی کمی اور اعصابی مسائل کے علاج کی دوا جبکہ پٹھوں کے کھچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی دوا بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق سانس اور کھانسی کے شربت کے بعض نمونوں میں مقررہ حد سے زیادہ نقصان دہ کیمیکل کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔جانوروں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی لمپی اسکن ویکسین اور مختلف بیکٹیریل بیماریوں کے علاج کی ایک دوا کو بھی غیرمعیاری یا جعلی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سوزش اور شدید الرجی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے انجیکشن کی دو کھیپوں کو تحقیقات مکمل ہونے تک روک دیا گیا ہے۔متعلقہ حکام نے متاثرہ ادویات کے مخصوص بیچز کی خرید و فروخت اور استعمال فوری طور پر روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید کارروائی شروع کردی ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔