رباط: سائنسدانوں نے تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار سال قبل زمین پر موجود ابتدائی ہومو سیپینز کے چہرے کی ڈیجیٹل تشکیل نو کرلی، جس سے قدیم انسان کے ممکنہ خدوخال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔سائنسی جریدے ’ہیرٹیج‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چہرے کی یہ تشکیل مراکش کے جبل اِرہود سے دریافت ہونے والے تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے انسانی فوسلز کی مدد سے کی گئی۔تحقیق میں ’اِرہود 1‘ نامی فوسل کو مرکزی اہمیت دی گئی، جو 1960 کی دہائی میں جبل اِرہود سے دریافت ہوا تھا۔
ماہرین نے اسی مقام سے ملنے والے دیگر فوسلز کے جبڑوں اور دانتوں کے حصوں کو بھی شامل کرکے ایک مرکب تین جہتی کھوپڑی تیار کی۔ماہرین نے قدیم کھوپڑی کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل کیا اور بعد ازاں جدید انسان کی کھوپڑی کے سی ٹی اسکین کو اس ساخت کے مطابق ڈھال کر چہرے کی ممکنہ شکل بنائی۔
چہرے کی تشکیل کے دوران ماہرین نے پٹھوں، ناک، ٹھوڑی اور دیگر جسمانی حصوں کی ممکنہ ساخت کا تخمینہ لگایا، جبکہ جدید افریقی آبادیوں کے نرم بافتوں سے متعلق دستیاب سائنسی اعداد و شمار سے بھی مدد لی گئی۔تحقیق کے دوران قدیم انسان کے چہرے کی دو ڈیجیٹل شکلیں تیار کی گئیں۔ 
پہلی تصویر سیاہ و سفید اور بغیر بالوں کے ہے، جس میں فوسل سے سامنے آنے والی ہڈیوں کی خصوصیات کو نمایاں کیا گیا ہے۔دوسری ڈیجیٹل شکل میں جلد کی رنگت، بال اور داڑھی بھی شامل کی گئی ہے۔ تاہم محققین کے مطابق ان خصوصیات کا براہِ راست تعین فوسلز سے ممکن نہیں، اس لیے یہ تفصیلات سائنسی اندازوں کی بنیاد پر شامل کی گئی ہیں۔