چیئرمین سپارکو یوسف خان نے کہا ہے کہ پاکستان خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی جانب گامزن ہے اور اب یورپی و چینی سیٹلائٹس پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’جناح ون‘ کو 2028 میں چاند پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔ورلڈ اسپیس ویک کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سپارکو نے کہا کہ اس ہفتے کا انعقاد نوجوانوں میں خلائی سائنس اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے خلائی پروگرام میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔یوسف خان نے بتایا کہ پاکستان نے جنوری 2025 میں اپنا سیٹلائٹ ای ون خلا میں بھیجا، جبکہ جولائی اور اکتوبر 2025 میں مزید دو سیٹلائٹس بھی مدار میں بھیجے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چھ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔چیئرمین سپارکو کے مطابق یہ سیٹلائٹس زراعت، شہری و علاقائی منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے معلومات فراہم کرنے میں معاون ہیں، جس سے مختلف شعبوں میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سہولیات اور ٹیلی ویژن نشریات کی رسائی بڑھانے کے لیے بھی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔چیئرمین سپارکو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت پاکستان کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے، جبکہ ’جناح ون‘ مشن 2028 کے لیے پاکستان کے خلائی پروگرام کا ایک اہم ہدف ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔