پشاور: خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے 799 ارب روپے سے زائد کی رقم فراہم کی گئی۔ محکمہ خزانہ کی دستاویز کے مطابق مالی سال 2010-11 سے ستمبر 2026 تک صوبے کو مجموعی طور پر 799 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔دستاویز کے مطابق یہ رقوم دہشتگردی کے باعث ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے فراہم کی گئیں، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کو ہر سال اس مد میں فنڈز جاری کیے جاتے رہے ہیں۔
محکمہ خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو وفاقی ٹیکس پول سے ایک فیصد اضافی حصہ دیا گیا۔ مالی سال 2026-27 کے لیے وار آن ٹیرر فنڈ کا تخمینہ 149 ارب 76 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2026-27 کے ابتدائی ڈھائی ماہ کے دوران صوبے کو 23 ارب 69 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ اس سے قبل مالی سال 2024-25 میں 112 ارب 29 کروڑ 60 لاکھ روپے، جبکہ 2025-26 میں 128 ارب 23 کروڑ 40 لاکھ روپے فراہم کیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں وار آن ٹیرر فنڈ کے لیے الگ مد مختص نہیں ہے۔محکمہ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص فنڈز دیگر صوبوں کو بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق اس فنڈ کی مجموعی رقم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات کے اہداف سے منسلک ہے، اور محصولات کے مقررہ اہداف پورے ہونے کی صورت میں فنڈز کی مکمل فراہمی ممکن ہوتی ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔