روس میں طاعون پھیلنے کی اطلاعات کے بعد عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سائبیریا کے ایک تحقیقی مرکز میں خاتون اہلکار کی طاعون کے باعث ہلاکت کے بعد ان سے رابطے میں رہنے والے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اقوام متحدہ نے روسی حکام سے صورتحال کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی روس سے واقعے کی تفصیلات اور صورتحال سے متعلق معلومات شیئر کرنے پر زور دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جلد بات کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی روسی حکام پر زور دیا ہے کہ واقعے سے متعلق معلومات میں شفافیت برقرار رکھی جائے۔روس میں طاعون کے خدشات کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق موجودہ صورتحال کو کورونا جیسی عالمی وبا سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ روس میں سامنے آنے والی صورتحال سے عالمی سطح پر خطرہ فی الحال بہت کم ہے اور ایسی کوئی واضح علامت موجود نہیں جس سے یہ اندازہ ہو کہ طاعون کی موجودہ صورتحال کورونا وائرس جیسی عالمی وبا میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر نمونیا کی طاعون والی قسم کی تصدیق بھی ہوجاتی ہے تو بروقت تشخیص اور مناسب اینٹی بایوٹکس کے ذریعے اس کا علاج ممکن ہے۔ تاہم ماہرین نے صورتحال کی مسلسل نگرانی اور احتیاطی اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔