ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے باعث رواں ربیع سیزن میں گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ربیع سیزن کے دوران پانی کی مجموعی کمی 25 فیصد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ پانی کے حصے دار صوبوں کو بھی دستیاب پانی میں کمی کے تناسب سے حصہ دیا جائے گا۔
ربیع کی فصلوں کیلئے تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ فٹ پانی درکار ہے، تاہم دستیاب پانی کا حجم صرف 2 کروڑ 20 لاکھ ایکڑ فٹ کے لگ بھگ بتایا جا رہا ہے۔ صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے رواں ہفتے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کا اہم اجلاس بھی متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں پانی کے بحران کی کئی وجوہات ہیں، جن میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر میں تاخیر، بارشوں میں مسلسل کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسم کے غیر متوقع حالات شامل ہیں۔ بھارت کے ساتھ آبی معاملات بھی پاکستان میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے تشویش کا باعث رہے ہیں۔
پانی کی کمی کا براہِ راست اثر زرعی شعبے پر پڑنے کا خدشہ ہے، خصوصاً گندم کی فصل کیلئے مطلوبہ مقدار میں آبپاشی نہ ہونے سے پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث پاکستان کو پانی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر پانی کے بہتر انتظام اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔