اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورت آگے نہ بڑھ سکی۔ حکومتی رابطوں کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کے درمیان ملاقات نہیں ہو پائی۔
ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے وزیراعظم سے ملاقات سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کی شرط عائد کی ہے، تاہم حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ آئینی معاملات پر مشاورت وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ہی ہونی چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزا یافتہ شخص کا آئینی امور سے متعلق فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں حکومت بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے مطالبے کو قابلِ قبول قرار نہیں دے رہی۔
وزیراعظم چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کو پہلے ہی دو خطوط ارسال کر چکے ہیں، تاہم اس معاملے پر تاحال اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی پارلیمنٹ اور وزیراعظم آفس میں ملاقات سے بھی گریز کر رہے ہیں، جس کے باعث اہم آئینی تقرریوں پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورت کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔