اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مسلسل سیاسی عدم استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ا
ن کے مطابق 2024 کے بعد اب 2026 میں بھی اسلام آباد کی جانب پیش قدمی اور حملے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو سیاسی عدم استحکام کی پالیسی ترک کرنے، ذاتی سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم ریاست کو دباؤ میں لا کر مطالبات تسلیم کروانے کی حکمت عملی قابلِ قبول نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز بھی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ تمام سیاسی اور دیگر معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔وزیراعظم کے مشیر نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی پر بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں مشاورت شامل نہیں۔
ان کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جاری ہیں اور کوئی نیا آپریشن شروع نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے، جبکہ خیبر پختونخوا میں کسی علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی نہیں ہو رہی۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔