اسلام آباد: مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے درمیان پارلیمان میں قانون سازی کے حوالے سے جاری اختلافات ختم ہوگئے ہیں، جس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون پر اتفاق رائے ہوگیا۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں حکومتی قانون سازی کی حمایت کرے گی۔
، جبکہ اس کے بدلے میں انتخابی اصلاحات کے لیے تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی پیپلزپارٹی کو دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔ 
کمیٹی میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے گی۔انتخابی اصلاحات کمیٹی میں سیاسی جماعتوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی عددی طاقت کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی، تاکہ تمام پارلیمانی جماعتیں اصلاحات کے عمل میں شامل رہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق بلز سمیت مجموعی طور پر تقریباً 30 مختلف بلوں کی منظوری میں تعاون پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔اس پیش رفت کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان قانون سازی کے معاملے پر پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک ختم ہوگیا ہے اور پارلیمانی امور میں باہمی تعاون کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔