پاکستان کی وزارت اطلاعات نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا۔ وزارت کے مطابق یہ خبر بے بنیاد، جھوٹی اور من گھڑت ہے۔وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں عالمی میڈیا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی موقع پر پاکستانی فوج کی تعیناتی ضروری ہوئی تو اس حوالے سے باضابطہ معلومات متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا ہدف کوئی ملک نہیں ہے۔
دوسری جانب، گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے بعض اہلکار طویل عرصے سے سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے دفاعی تعاون کے تحت وہاں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دفاعی اتحاد کوئی اچانک سامنے آنے والا معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ عسکری تعلقات کا تسلسل ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کوئی نئی پیش رفت نہیں، بلکہ تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے قائم فوجی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستوں کا تعلق مختلف عسکری شعبوں سے ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔