وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کردی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں طلال چوہدری نے کہا کہ جن افراد پر الزامات عائد ہیں، ان کے مقدمات عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔
، جبکہ ایسے افراد جن کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں، انہیں رہا کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں داخلے کی اجازت بھی محدود کردی گئی تھی، جبکہ وہاں تعینات عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی گئی تھی۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ روز آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت گورنر خیبرپختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکتی ہے۔ اس کے تحت گورنر وفاق کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات اور ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔
مزید کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا نامزد کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل کو فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑنے ہوں گے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔