اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت کیا گیا، جس کے لیے صدر مملکت نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کیے۔غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ 1973 کے آئین سمیت پاکستان کے سابقہ آئینوں میں بھی غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی قانونی اور آئینی طریقہ کار موجود رہا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق آئین ملک کے نظام حکومت کی بنیاد فراہم کرنے کے ساتھ مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اختیارات اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملکت ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرسکتے ہیں، جبکہ اس عمل میں وزیراعظم کا مشورہ اور صدر کا اطمینان آئینی اہمیت رکھتے ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ آئین میں آرٹیکلز 232 اور 234 شامل کرنے کا مقصد ایسے غیر معمولی حالات میں ریاست کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کرنے کا راستہ فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس دوران قوم نے بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور مختلف سرکاری اداروں کی رپورٹس ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق فیصلے میں اہم عوامل بنے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف حالیہ دنوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق خطے میں کئی دہائیوں سے جاری صورت حال سے ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کو مختلف اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔