اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے اور مل کر چلنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم مذاکرات میں اتفاق رائے کے باوجود پیش رفت کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث حکومت کو گورنر راج کا فیصلہ کرنا پڑا۔
مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن مذاکرات میں اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد بھی عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بات چیت تقریباً نتیجے تک پہنچ چکی تھی، تاہم آخری مرحلے پر پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے صوبائی حکومت سے مشاورت کی ضرورت ظاہر کی، جس کے بعد معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ اس طرزِ عمل سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے لیے صورتحال فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی تھی اور ایسے حالات میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ ناگزیر ہوگیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی وفاق کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جبکہ سہیل آفریدی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ وزیراعظم کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے اختیار کیا گیا طرزِ بیان انتہائی نامناسب تھا۔