پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کی ہے اور اس کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر آئی، لیکن اس کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا۔
نہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومتی اقدامات کا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ ہے یا تحریک انصاف کو ختم کرنا؟ ان کے مطابق پارٹی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ اس سے قبل بھی مذاکرات ہو چکے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشتگردی کی مخالفت کی ہے۔ ا
ن کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی حمایت کرتے ہیں۔ پولیس کو فنڈز فراہم نہ کرنے کے الزامات کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے بجٹ کا 2 فیصد پولیس کے لیے مختص کیا۔شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ پُرامن احتجاج اور مطالبات پیش کرنا پی ٹی آئی کا مؤقف رہا ہے
، لیکن ان کے بقول اصل مطالبات پسِ پشت چلے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی صورت دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتی۔ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد پوری سیاسی جماعت کو دہشتگردوں کا حامی قرار دینا غلط ہے اور ایسے الزامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔