اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی مخالفت کے باوجود سینیٹ نے ارکانِ ایوان کو تاحیات بلیو پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق ترمیمی بل منظور کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق بیوروکریٹس اور ان کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، جبکہ قومی اسمبلی کے ارکان بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے سینیٹرز کو بھی یہ سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بلیو پاسپورٹس کی تعداد پہلے 75 ہزار تھی، جسے کم کرکے 45 ہزار کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کے معاملے میں قومی سلامتی اور ملک کے وقار کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔طلال چوہدری نے مزید کہا کہ یورپی ممالک اور کینیڈا کی جانب سے بھی سرکاری پاسپورٹس کے اجرا پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بل کی منظوری مؤخر کردی جائے، کیونکہ وزارت داخلہ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلیو پاسپورٹس کے اجرا کو قواعد و ضوابط کے تحت محدود اور منظم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنا مستقبل بنانے کا موقع ملنا چاہیے، کیونکہ بلیو پاسپورٹ کسی کی عزت کا معیار نہیں ہوتا۔
دوسری جانب سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ سینیٹرز سے این او سی طلب کرنا ان کے استحقاق کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر تحریکِ استحقاق پیش کرنے کا اعلان بھی کیا۔حکومتی وزرا کے اعتراضات کے باوجود بل کی منظوری کے بعد سینیٹرز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کا معاملہ سیاسی اور پارلیمانی حلقوں میں زیرِ بحث آگیا ہے۔