مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ پیش رفت مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے پارلیمنٹ سے منظوری طلب کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔چند روز قبل صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ میں مصری ملٹری اکیڈمی کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مصر سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔صدر السیسی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو کسی نقصان یا اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مصر خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے مدد طلب کی گئی تو مصر کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کی نوعیت دفاعی ہوگی۔رپورٹ کے مطابق صدر السیسی کی درخواست پر مصری پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا، جس میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے ممکنہ فوجی تعاون پر غور کیا گیا۔ اس سے قبل مصر کی قومی دفاعی کونسل نے بھی صدر کی زیر صدارت اجلاس میں دفاعی مشن کے لیے فوج بھیجنے کی منظوری دی تھی۔دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور اہم تجارتی راستوں کی صورتحال بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق 2023 میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کے آغاز کے بعد نہر سوئز کی آمدنی کو تقریباً 11 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔مصر کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی معاونت کی منظوری کو خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم فوجی تعاون کی عملی نوعیت اور اس پر عمل درآمد سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔