امریکا کی جانب سے نومبر میں ایران کے خلاف محدود مدت کی شدید فوجی کارروائی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حملے کے حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو ممکنہ حملوں کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے حق میں ہیں۔ ممکنہ کارروائی کے پیش نظر امریکا نے اپنے میزائل دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ بمبار اور لڑاکا طیاروں کو بھی تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔تاہم فوجی تیاریوں اور ممکنہ کارروائی کی اطلاعات کے باوجود سفارتی رابطے جاری ہیں۔ صورتحال میں آئندہ پیش رفت کا انحصار امریکا کے حتمی فیصلے اور جاری سفارتی کوششوں کے نتائج پر ہوگا۔