سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے اور ان کے دورِ صدارت میں کیے گئے معاہدے کے ذریعے تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔براک اوباما کے مطابق ایران کے جوہری معاملے سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی یا میزائلوں کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا گیا۔
اس مقصد کے تحت ایران کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تاکہ اس کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرکے اسے محدود رکھا جا سکے۔سابق امریکی صدر نے اس مؤقف پر زور دیا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، کیونکہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری ایک اہم راستہ ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔