امریکا میں سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انتخابی نتائج پر پیسہ لگانے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کانگریس، سینیٹ اور مختلف ریاستوں میں گورنرز کے انتخابی نتائج پر کروڑوں ڈالر کی شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔
انتخابی مہم میں تیزی کے ساتھ پیش گوئی کی مارکیٹس (Prediction Markets) میں بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر سرمایہ کار اور سٹے باز مختلف امیدواروں کی ممکنہ کامیابی، سیاسی جماعتوں کی اکثریت اور انتخابی نتائج سے متعلق مختلف امکانات پر رقم لگا رہے ہیں۔
امریکا میں اس حوالے سے نمایاں پلیٹ فارمز میں کیلشی (Kalshi) بھی شامل ہے، جو امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر اس سرگرمی کو سیاسی سٹے بازی یا جوئے سے تشبیہ دی جاتی ہے، تاہم کیلشی اسے مالیاتی اصطلاح میں ایونٹ کنٹریکٹس کی خرید و فروخت قرار دیتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کیلشی کی مختلف انتخابی مارکیٹس میں گزشتہ 30 روز کے دوران تقریباً 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالر کی مالیت کے معاہدوں کی خرید و فروخت ہوئی، جبکہ صرف 31 اکتوبر کو ایک روز میں تقریباً 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کے داؤ لگائے گئے۔
تاہم ان اعداد و شمار میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے علاوہ دیگر انتخابی پیش گوئیوں سے متعلق مارکیٹس بھی شامل ہیں، اس لیے پوری رقم کو صرف 3 نومبر کے امریکی انتخابات پر لگائی گئی شرطوں کا مجموعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
سیاسی پیش گوئیوں کی ان مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی دلچسپی نے امریکی انتخابی عمل کے ساتھ مالیاتی سرگرمیوں کو بھی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں انتخابی نتائج کے امکانات اب کروڑوں ڈالر کی تجارتی سرگرمیوں کی بنیاد بن رہے ہیں۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔