مسلم لیگ (ن) نے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کو مناسب نمائندگی دینے کے لیے اپنے حصے کی نشستیں کم کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کمیٹی میں تناسب کے اعتبار سے ملنے والی اپنی نمائندگی میں کمی کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور مسلم لیگ ضیاء کو بھی جگہ ملنے کا امکان ہے۔ ان تینوں جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے ایک، ایک رکن کو کمیٹی میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔
دوسری جانب حکومت نے انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں نمائندگی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے بھی اپنے نام بھجوانے کی درخواست کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے چیف وہپ اعجاز جاکھرانی اور ایم کیو ایم کے چیف وہپ امین الحق کو باضابطہ خطوط ارسال کردیے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے موصول ہونے والے خط کی روشنی میں حکومتی اتحادی جماعتوں سے پارلیمانی کمیٹی کے لیے نام طلب کیے ہیں۔
کمیٹی کی تشکیل کا مقصد انتخابی نظام میں بہتری اور اصلاحات سے متعلق تجاویز پر پارلیمانی سطح پر مشاورت اور غور و خوض کرنا ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔