لاہور اور ملتان میں فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک ہوگئی، اسموگ کی شدت میں اضافے کے باعث شہریوں بالخصوص بچوں کی صحت متاثر ہونے لگی ہے۔
لاہور 458 ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا، جبکہ ملتان میں فضائی آلودگی کی سطح 719 ریکارڈ کی گئی۔
ملتان میں زہریلی فضا کے اثرات بچوں کی صحت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صرف پانچ روز کے دوران چلڈرن اسپتال میں اسموگ سے متاثرہ 700 سے زائد بچوں کو طبی امداد کے لیے لایا گیا۔
فضائی آلودگی کے باعث بچوں میں آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، بخار اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات سامنے آ رہی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموگ اور آلودہ فضا بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ بچوں کو اس کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔
ڈاکٹرز نے ہدایت کی ہے کہ اسموگ کے دوران بچوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکالا جائے، جبکہ اسکول جانے والے بچوں کے لیے ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے فضائی آلودگی کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔