ایڈیشنل چارج پر تعینات چیف آ فیسر ڈیرہ نے کرپشن کے ساتھیوں کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرلیا - Baithak News

ایڈیشنل چارج پر تعینات چیف آ فیسر ڈیرہ نے کرپشن کے ساتھیوں کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرلیا

عثمان بزدارکے رائٹ ہینڈ مختیار جتوئی نے اپنی پچھلی تعیناتی کے دوران 15کروڑکی کرپشن کے باوجود سیاسی سفارش پر سال بھر سیٹ پر تعینات رہا

ملتان (انویسٹی گیشن سیل) وہی قاتل وہی منصف ،رشوت، سفارش یا سیاسی سرپرستی، مختیار جتوئی کی بطور چیف آفیسر تعیناتی غیر قانونی قرار دئیے جانے کے باوجود تاحال ایڈیشنل چارج پر چیف آفیسر یونٹ نمبر 162 ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان تعینات، مختیار جتوئی چیف آفیسر نے اپنی بطور ایڈیشنل چارج چیف آفیسر تعیناتی کو غیر قانونی قرار دینے کے باوجود اپنے غیر قانونی اختیارات کا ناجائز اور غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے اپنی 15 کروڑ روپے کی کرپشن میں مرکزی ملزمان کو دوبارہ اپنی ٹیم میں شامل کرلیا.

تفصیل کے مطابق عثمان احمد بزدار سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے رائٹ ہینڈ مختیار جتوئی نے اپنی پچھلی تعیناتی سال 2018/19 میں میونسپل کمیٹی تونسہ شریف میں بطور ایڈیشنل چارج پر چیف آفیسر ، ایم او فنائنس،ایم او ار پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن کی تھی اور اس وقت تعینات عامر عزیز اڈٹ سابق اڈٹ افیسر نے بھی مختیار جتوئی کی بطور ایڈیشنل چارج چیف افیسر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا .تھا

لیکن پھر بھی سیاسی سفارش پر سال بھر تعینات رہا پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن پر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان نے سورس رپورٹ بنا کر بجاے مقدمہ درج کرنے کے ریگولر انکوائری نمبری 357/19 شروع کر دی تاکہ مختیار جتوئی اور ان کے سیاسی سرپستوں کو بچایا جا سکے اور ایسا ہی ہوا کہ پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن کی سورس رپورٹ میں عمر عبدالرحمن اسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنکل اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان نے صرف 61 لاکھ روپے کی ریکوری ڈالی وہ بھی صرف کاغذوں میں جوکہ آج تک گورنمنٹ کے اکاوئنٹ میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں ہوا جب کہ دوسری جانب محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے اعلی چار افیسران نے انکوائری کی جس میں انہوں نے پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن کی مکمل تصدیق کرتے ہوے پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت ریگولر انکوائری کی سفارش کی تھی

مختیار جتوئی نے پیڈا ایکٹ کے تحت ہونے والی ریگولر انکوائری کو فوری تبدیل کراکے ملتان میں تعینات ملک فاروق ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو انکوائری افیسر مقرر کرالیا جس نے سیاسی سفارش پر مختیار جتوئی کو پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن کی انکوائری میں کلین چٹ دینے کی ناکام کوشش کی ملک فاروق کی انکوائری رپورٹ سے نور الاامین منیگل سابق سیکڑری لوکل گورنمنٹ نے اتفاق نہ کیا اور ایک بار پھر پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کے لیے محمد خرم عباس ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ڈیرہ غازی خان کو انکوائری افیسر مقرر کیا جس نے تین ماہ سے انکوائری دبایا ہوا اور کوشش کر رہا ہے کہ خاموشی سے انکوائری کو ڈراپ کیا جاے وہ مثال کہ وہی قاتل وہی منصف کے عین مطابق کمشنر ڈیرہ غازی خان کے حکم پر ایڈیشنل کمشنر نے مورخہ 24/02/22 کو بذریعہ لیٹر نمبری Endat_no_ Admn/2434_39 کے ذریعہ دوبارہ ایڈیشنل چارج پر چیف افیسر یونٹ نمبر 162 ضلع کونسل تعینات کردیا مختیارجتوئی کی بطور اڈیشنل چارج پر بطور چیف افیسر تعینات کو ندیم سہیل ڈپٹی ڈائریکٹر اڈٹ ڈیرہ غازی خان نے مورخہ 25/03/22 بذریعہ لیٹر نمبری no Rdd/A&A/dc/dgk_31 کے ذریعہ تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوے لیٹر لکھ دیا لیکن اس باوجود سابق روش برقرار رکھتے ہوے مختیار جتوئی تاحال چیف افیسر تعینات ہے وہی قاتل وہی منصف والی مثال کے عین مطابق مختیار جتوئی پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت چلنے والی انکوائری میں بطور ملزم پیش ہوں گے اور محکمہ کی طرف اپنی کرپشن کا ریکارڈ بھی بطور منصف پیش کریں گے مختیار جتوئی چیف افیسر نے اپنی غیر قانونی تعیناتی میں اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوے پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن میں مرکزی کردار افتاب بزدار ہیڈ کلرک کو بطور اکاوئٹنٹ تعینات کردیا جب کہ ادارہ ہذا میں تین اکاؤئٹنٹ غلام قاسم خدابخش ذاہد بزدار موجود ہیں اور مس مسرت کمپوٹر اپریڑ کو بطور اسٹنٹ اکاوئٹنٹ تعینات کردیا ہے جب کہ ادارہ ہذا میں مولوی عبدالمجید اکاوئنٹس کلرک احمد علی اکاوئنٹس کلرک موجود ہیں اسی طرح حفیظ اللہ ورک چارج کو ڈائری کلرک لگا دیا جب کہ ادارہ ہذا میں 14 جونیر کلرک تعینات ہیں مختیار جتوئی چیف افیسر کی طرف سے غیرقانونی تعیناتیوں سے ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان اور سیکڑری لوکل گورنمنٹ پنجاب مکمل لاعلم نکلے تونسہ شریف کے عوامی سماجی حلقوں نے شہباز شریف وزیراعظم پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن پر نیب سے دوبارہ انکوائری کرائی جاے پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن میں دیگران جو ملوث ہیں یا کرپشن پر پردہ ڈال رہے ہیں ان کے خلاف فوری انکوائری کا حکم دیا جاے۔

کرپشن کی سورس رپورٹ میں عمر عبدالرحمن اسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنکل اینٹی کرپشن ڈیرہ غازیخان نے صرف 61 لاکھ کی ریکوری ڈالی،وہ بھی محض کاغذوں کی حد تک

محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے اعلی چارفسران نے انکوائری کی جس میں پندرہ کروڑ روپے کی کرپشن ثابت بھی ہوئی اور پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کی سفارش کی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں