لوکل گورنمنٹ بہترین اور مؤثر نمائندگی - Baithak News

لوکل گورنمنٹ بہترین اور مؤثر نمائندگی

پنجاب میں بلدیاتی آرڈیننس 2001 کی معیاد 8جون 2022 کو ختم ہوگیاور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کی بحالی کے بعد ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کا عمل جاری ہے جس کے تحت ضلع میٹروپولیٹن کارپوریشن کمشنرمیو نسپل کارپوریشن اور ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں کمیشنر ضلع کونسل میں ڈپٹی کمشنر میونسپل کمیٹی کو اسسٹنٹ کمشنر اور یونین کونسل کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ بلدیات دیکھیں گے آئے روز کی تبدیلیوں سے عوام کو الجھا دیا گیا ہے بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور مالی خودمختاری کے حوالے سے ابہام کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو سکا دنیا کے متعدد ممالک میں عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کا نظام رائج ہے جس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ عوام کے مسائل بھی نچلی سطح پر حل ہو جاتے اور ہمارے ھاں مختلف ادوار میں مختلف بلدیاتی نظام آئے انتخابات بھی ھوےا تاہم یہ نظام پوری طرح نافذالعمل نہیں ھو سکے اور نہ ہی عوام تک ان کے ثمرات پہنچ سکے جبکہ حکمرانوں نے ممکنہ کوشش کی کہ تمام اختیارات ان کے پاس رہیں بلدیاتی نظام دراصل برائے نام نظام بن کر رہ گیا ہمارے ملک میں مقامی حکومتوں کی تشکیل میں لیت و لعل کے ذریعے تاخیری حربے اختیار کیے جاتے رہے جب کہ فوجی حکمران جب بھی قوت اقتدار پر قابض ہوئے تو مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے ایوب خان ضیاءالحق مشرف کے ادوار میں پاکستانی کی پیدائش کے بعد فوجی امر لوکل گورنمنٹ کو مکمل جمہوری طرز حکمرانی کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں مگر جمہوری حکومت جب بھی برسر اقتدار اہیں لوکل گورنمنٹ کو نظرانداز اور بائی پاس کرنے کی راہ اپنا تی رھیں جمہوری حکومتوں میں بلدیاتی نظام میں سیاسی ملکیت کا فقدان رہا رہا کیوں کہ فوجی حکومتوں کا تجویز کردہ لوکل گورنمنٹ کا ڈھانچہ قائم رکھتی ھیں اور انہیں منتخب لوکل گورنمنٹ ایک آنکھ نہیں بھاتی انیس سو انہتر سے لے کر 1979 تک اور پھر انیس سو اٹھاسی سے 1999 تک پاکستان بھر میں لوکل گورنمنٹ نظرانداز ہوتا نظر آتا ہے جب کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں لوکل گورنمنٹ کو اہمیت دی جاتی ہے جمہوری معاشروں میں مقامی حکومت منتخب افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو مقامی آبادیوں میں رہائش پذیر لوگوں کی شمولیت سے مقامی نظم و نسق چلاتی ہیں لوکل گورنمنٹ کو عصر حاضر میں جمہوریت کا اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے کیونکہ لوکل گورنمنٹ مقامی سطح کی حکومت خودمختاری کی بہترین شکل سمجھی جاتی ہے جو نہ صرف عوام کی روزمرہ کے مسائل سے متعلق اگاہ ہوتی ہے بلکہ لوکل گورنمنٹ میں کسی نہ کسی شکل میں عوام براہ راست حکمرانی میں شریک ہوتے ہیں لوکل گورنمنٹ مقامی سطح پر حکومت ہے جس کے باعث مقامی خدشات کو دور کرنے کا بہترین اور موثر ذریعہ عوامی نمائندوں کو بہترین موقع ملتا ہے کے مقامی سطح کے لوگ ہیں مقامی سیاق و سباق ثقافت اور مقامی وسائل سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بہترین حکمت عملی مرتب کرسکتے ہیں کیونکہ لوکل گورنمنٹ کا انسان سے پیدائش سے لے کر وفات تک جولی دامن کا ساتھ ہے گورنمنٹ کے فرائض میں مقامی ترقیاتی منصوبہ بندی اور ایسے تمام فرائض جو ہر شہری اور دہی باسیوں کیلئے رہائشی سہولیات کے زمرے میں آتے ہیں بلڈنگ کنٹرول اربن پلاننگ اور سٹریٹ پلاننگ سہولیات کی فراہمی پانی خوراک پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن کا عمل لؤکل گورنمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ میونسپل سروسز کی بہتر فراہمی میں شہریوں کی شراکت سے ہی ممکن ہے اور یہ سہولتیں عوامی نمائندہ کی مشاورت سے زیادہ بہتر انداز سے دی جاسکتی ہے تو ان عوامی نمائندوں کو مقامی وسائل اور مقامی مسائل کا بہترین انداز سے علم ہوتا ہے وہ بہتر پلاننگ کر سکتے ہیںہر طبقہ کی نمائندگی ہوتی ہے خواتین یوتھ کسان مزدور اقلیت سب کے مسائل اجاگر ہوتے ہیں اور وسائل اور مسائل کو دیکھ کر حل کے جاتے ھئن کمیٹیاں ہوتی ہیں جس سے انصاف اور مشاورت کا عمل بڑھتا ہے نگرانی اور شفافیت کی وجہ سےڈویلپمنٹ معیاری اور عوامی مفاد میں ہوتی ہے جہاں بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں وہاں کمیونٹی مضبوط ہوتی ہے عوامی حکومت جب بھی آئیں کونسلرز کو برخاست کرکے ایڈمنسٹریٹر لگا دیے گئے عوام کے پیسوں سے کیا لینا دینا جب مقامی حکومتیں تھیں تو عوامی نمائندوں کی پاس سرکاری استعمال کے لیے چھوٹی گاڑیاں خریدی جاتی تھی مقامی حکومتوں کا نظام نہیں ہے تو بی ایم ڈبلیوخریدی گئی ٢٠٠١ میں لوکل گورنمنٹ کے ملک بھر میں ایک لاکھ بیس ہزار نمائندہے متحرک و فعال ہوئے اگرچہ اس سسٹم میں قباحتیں بھی موجود تھی مگر مجموعی طور پر اس سسٹم کے بازگشت اچھے انداز میں سنی جا رہی ہے بلکہ 2005 میں اس سسٹم میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی ضلع سطح پر آگیے مگر پھر اس سسٹم کو بھی سمیٹ دیا گیا جبکہ آئین کا آرٹیکل 32 ریاست مقامی حکومتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرتا ھےجس میں اپنے علاقے کے منتخب نمائندے اقلیت کسان مزدور اور عورتوں کوخصوصی نمائندگی دی گئی آرٹیکل 140 اے تحت ہر صوبہ قانون کے مطابق ایک لوکل گورنمنٹ سسٹم بنائے گا اور صو بوں کو پابند کیا گیا کہ وہ مقامی حکومتوں کو سیاسی انتظامی اور مالیاتی اختیارات منتقل کریں گےمگر ہمارے ہااسمبلیوں ںاور سیاسی جماعتوں کے اندر لوکل گورنمنٹ کے بنیادی اشو کو زیر بحث لانا ثانوی اشو قراردیا جاتا ہے اگرچہ یہ موضوع اہم تسلیم کیا جاتا ہے مگر ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نمائندہ سیاسی جماعتیں ھربار مقامی حکومت قائم کرنے سے دور رہیں شاید انہیں یہ نظام حکومت کی بالائی سطح میں کنٹرول کے لےخطرہ سمجھتے ہیں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد پاکستان کی جمہوریت میں اہمیت کا حامل رہا ہے صوبائی اور وفاقی حکومت نے بار بار مقامی حکومتوں کو پسماندہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جس کے نتیجے میں پاکستان میں مقامی حکومتوں کا ایک مؤثر اور یکساں نظام قائم نہیں ہو سکا آج بھی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت نے لوکل گورنمنٹ کے اختیارات استعمال کر رھے ھیں حس کی ایک مثال گلیاں نالیاں سولنگ اور واٹر پلانٹ کی عوامی نمائندوں کی مشاورت سے لگانے کی بجائے وہ لگا رہے ہیں اور یہ مقامی حکومتوں کے اختیار میں تھا ہماری منتخب حکومتیں لوکل گورنمنٹ کے لیے اول تو پالیسیاںبنائی نہیں اگر بنائی ہے تو خود بھی ان پر عمل درآمد نہیں کیا حاتا حس کی وجہ سے کسی نہ کسی کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ھےاور عدالتیں مسلسل حکومتوں کی بازگشت بھی کرتی ہے اور عدلیہ کا دباؤ بھی ہوتا ہے پھر حکومتوں کو بادل ناخواستہ لوکل گورنمنٹ میں اصلاحی اقدامات کرنا پڑتے ہی دیکھنا ہوگا کہ ہمارے حکمران اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہیں ایک بار پھر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کو بحال کر دیا گیا ہےدو اور 2019 ایکٹ کے تحت پہلے ہی الیکشن کمیشن نے پنجاب میں تمام حلقہ بندیوں کے ڈرافٹ پر کام مکمل کرلیا تھا اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ بلدیاتی الیکشن اسی کے تحت ھو گے ضروری ہے کہ ہم اس بات پر زور دیں گے کہ بلدیاتی الیکشن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کے ساتھ ایک ہی روز منعقد کیے جائیں اور بلدیاتی الیکشن کی مدت بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ہی ختم ہو تاکہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ معاون بنیں اور مقامی حکومتوں کو مضبوطی حاصل ہو ملک میں جمہوریت بہتر انداز سے پروان چڑھ سکے مضبوط جمہوری ادارے شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور انصاف کی بروقت فراہمی پرامن پاکستان کی ضامن ہے لوکل گورنمنٹ بہترین اور مؤثر نمائندگی کا ایک ذریعہ ھے جس کے تحت منتخب ہونے والے نمائندے عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوتے ہیں اور ترقی کا عمل جاری رہتا ہے۔

ہمیں فیس بک پر فالو کریں

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں