ایس ایچ او کا سکیل.... ؟ - Baithak News

ایس ایچ او کا سکیل…. ؟

تحریر: رانا امجد علی امجد

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والہ ایک سرمایہ کار نیا نیا امریکہ سے پاکستان لوٹا. انہوں نے خارزار سیاست کی صحرا نوردی کی ٹھانی اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا.
یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان بالخصوص جنوبی پنجاب میں سیاست پولیس کے تعاون کے بغیر ناممکن سمجھی جاتی ہے ۔ تھانہ کچہری پر ہولڈ رکھنا ہی سیاست میں کامیابی کی علامت ہے ۔ جو اس میں ناکام ، سو وہ سیاسی میدان میں بھی ناکام گردانا جاتا ہے ۔ چنانچہ کسی پرانے سیاسی پاپی یعنی گرو نے اس امیرزادے اور سرمایہ کار کو سیاست گری کا یہ ہنر بتا ہی دیا ۔ چنانچہ انہوں نے پولیس افسران سے راہ و رسم بڑھانے کا آغاز کر دیا کیونکہ وہ ایک طویل عرصہ امریکہ رہ کر آئے تھے ، وہاں کے پولیس سسٹم اور پولیسنگ سے پوری طرح واقف تھے اور وہ یہاں کی پولیسنگ کو اس تناظر میں دیکھتے تو وہ اس کے عین برعکس تھی ۔ اس لئے انہیں یہاں کے پولیس معاملات کی سوجھ بوجھ نہ تھی اور وہ پاکستانی پولیسنگ سے تقریباً نا آشنا ہی تھے ۔
ایسے میں ایک روز وہ ملتان کے ایک اعلیٰ ترین عہدے پر فائز پولیس افسر کے پاس تشریف فرما تھے ، گپ شپ کے دوران انہوں نے اچانک اس پولیس افسر سے پوچھ لیا کہ جناب ۔۔۔ یہ ایس ایچ او کے پاس جو اتنے اختیارات ہیں ۔۔ ۔ بائی دا وے ۔۔۔ ایس ایچ او کا کتنا سکیل ہوتا ہے ۔۔۔ ؟ اس پر مذکورہ
افسر ہنسے اور انہوں نے دفتر میں موجود افراد کو باہر جانے کا حکم دیا ۔ بیل بجائی اور اندر آنے والے اردلی سے پوچھا کہ باہر کتنے ایس ایچ اوز موجود ہیں جس نے بتایا کہ 8 ایس ایچ اوز باہر طلبی پر آئے ہوئے ہیں ۔ افسر نے ایک سٹی تھانہ کے ایس ایچ او کو بلانے کا حکم دیا ۔۔۔ ایس ایچ او اندر آیا ۔ صاحب کو سیلوٹ کیا اور
کھڑا ہو گیا ۔ صاحب نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کتنی دیہاڑی بن جاتی ہے ۔۔۔ جو پہلے تو اس سوال پر ہکلایا ۔۔۔ کہ وہ سر ۔۔ ۔ سر ۔۔۔ اس پر افسر نے اسے جھاڑا ۔۔۔ سیدھی طرح بتاؤ کتنی دیہاڑی لگا لیتے ہو؟ اس نے بتایا کہ سر ۔۔۔ یہی کوئی دو اڑھائی لاکھ روپے۔۔۔ ! ہوں ۔۔۔ یعنی مہینہ کے 60,70 لاکھ۔۔۔ چلو ٹھیک ہے ۔۔۔ افسر نے کہا اور اسے باہر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد افسر نے کہا کہ ۔۔ ۔ خان صاحب۔۔۔۔ اس کا سکیل ہے 31, 32 ۔۔۔ افسر نے دوبارہ بیل دی اور اردلی کو حکم دیا کہ فلاں تھانہ صدر کے ایس ایچ او کو اندر بھیجو ۔ اس سے بھی وہی آمدنی کے بارے سوال و جواب ہوئے اور اس کی آمدنی ماہانہ 2 کروڑ سے زائد نکلی ، جس پر اعلیٰ پولیس افسر نے کہا کہ ۔۔۔ اس ایس ایچ او کا سکیل ہے 45, 46 ۔۔۔ ! دونوں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو گئے ۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ وہ امریکہ پلٹ سرمایہ کار ایک جماعت کی ٹکٹ پر نہ صرف ممبر پارلمینٹ منتخب ہوئے بلکہ ان دنوں بھی ملکی سیاست کا حصہ اور فعال سیاستدان ہیں ۔

ہمیں ٹوئٹر پر فالو کریں

مزید جانیں

مزید پڑھیں

صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں:محمد ارشد

حکومت پنجاب کی ہدایت پراشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پرفراہمی کو یقینی بنایاجائے لیہ( بیٹھک رپورٹ )ضلع میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو سستی اشیاء خورد نوش فراہم کی جاسکیںاس سلسلہ مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں