استعفوں سے متعلق آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے تحریک انصاف کا عدالت سے رجوع - Baithak News

استعفوں سے متعلق آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے تحریک انصاف کا عدالت سے رجوع

پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی استعفوں سے متعلق وزرا کی آڈیو لیک پر تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے۔استعفوں سے متعلق زیر التوا مقدمے میں پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر اراکین کو فریق بنایا گیا ،درخواست کے ساتھ آڈیو لیکس کا ٹرانسکرپٹ بھی لگایا گیا ہے۔
درخواست میں مقف اپنایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا نے اسپیکر کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی استعفوں سے متعلق فوج داری سازش کی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی استعفوں سے متعلق آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ انکوائری کمیشن وزیراعظم شہباز شریف ، رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ آصف اور اسپیکرقومی اسمبلی راجا پرویز اشرف سے تحقیقات کرے، تمام فریقین کے خلاف سازش پر فوجداری کارروائی شروع کی جائے۔
بعدازاں اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ تحریک انصاف نے استعفوں سے متعلق وزرا کی گفتگو کی آڈیولیکس کا اسکرپٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ اب یہ لیکس سپریم کورٹ کے سامنے ہیں، ایک تو سپریم کورٹ ان لیکس کے بعد تحریک انصاف کے 11 اراکین کے استعفوں کے معاملے پر فیصلہ کرے اور اس سے زیادہ اہم یہ کہ ان لیکس کی تحقیقات کا حکم دے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آنے کے بعد وزرا، حکمراں اتحاد کے رہنماں اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بھی مبینہ آڈیو کلپس منظر عام پر آ چکی ہیں،24 ستمبر کو وزیر اعظم شہباز شریف اور ایک سرکاری افسر کے درمیان مبینہ گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر لیک ہوئی تھی۔
2 منٹ سے زیادہ طویل آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر وزیر اعظم کی آواز کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ مریم نواز شریف نے ان سے اپنے داماد کو بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کا کہا۔اگلے روز جو کلپس منظر عام پر آئیں ان میں وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل اور قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے ارکان اوسمبلی کے استعفوں سے متعلق گفتگو کی گئی تھی جبکہ تیسرے آڈیو کلپ میں مریم نواز کو سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل کے بارے میں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ‘اسے پتا نہیں کہ یہ کر کیا رہا ہے،
اس نے بہت مایوس کیا، اس کی شکایتیں ہر جگہ سے آتی رہتی ہیں، وہ ذمہ داری نہیں لیتا، ٹی وی پر الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔مذکورہ کلپ میں مریم نواز نے سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے واپس آنے کی بھی خواہش کا اظہار کیا۔دوسرا کلپ مبینہ طور پر وزیر اعظم، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق کے درمیان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے پی ٹی آئی کے قانون سازوں کے استعفوں کے بارے میں ہونے والی گفتگو سے متعلق ہے۔
آڈیو لیک میں پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی منظوری پر مبینہ طور پر وفاقی وزرا کی مختلف آرا پر گفتگو سنی جا سکتی ہے، آڈیو میں استعفوں کی منظوری کیلئے لندن سے اجازت لینے کا بھی ذکر کیا گیا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر کیساتھ سائفر کے حوالے سے 2 مبینہ آڈیوز بھی گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سامنے آچکی ہیں۔
متعدد آڈیو لیکس نے وزیر اعظم ہاس کی سیکیورٹی سے متعلق خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی ہے اس حوالے سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کے اجلاس میں آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

بھارت، لمپی سکن کا وائرس پندرہ ریاستوں تک پھیل گیا، ایک لاکھ سے زائد مویشی ہلاک

Shakira could face 8 years in jail

امریکا، کیمرا مین لائیو نشریات چھوڑ کر طوفان میں پھنسے لوگوں کو بچانے چلا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں