قراقرم ہائی وے 1986 میں پہلی مر تبہ دنیا کے سامنے نمودار ہوئی، چینی میڈ یا - Baithak News

قراقرم ہائی وے 1986 میں پہلی مر تبہ دنیا کے سامنے نمودار ہوئی، چینی میڈ یا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل قلعہ لاہور اور قلعہ روہتاس ، اس کے علاوہ بادشاہی مسجد ، اور مزار قائد سمیت بے شمار پرکشش مقامات سیاحوں کی دلچسپی کا سامان لیے ہوئے ہیں۔ جمعرات کے روز چینی میڈ یا میں شا ئع ہو نے والی رائے میں اظہار کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ ،چین پاکستان خنجراب پاس سے 240 کلومیٹر دور واقع ہے،سحر انگیز وادی ہنزہ قراقرم ہائی وے یعنی چائنا پاکستان فرینڈ شپ روڈ کے 1986 میں کھلنے کے بعد بیرونی دنیا کے سامنے پہلی مرتبہ باضابطہ نمودار ہوئی۔
ہنزہ کے وسط میں واقع قصبہ دنیا کا واحد گاؤں ہے جہاں سے آپ سطح سمندر سے 7000 میٹر بلند پانچ برف پوش پہاڑوں کو دیکھ سکتے ہیں،برف پوش چوٹیاں، ہزار سالہ قدیم قلعہ، شاندار گلیشیئرز، پہاڑوں پر تہہ در تہہ کھیت اور خوبانی کے درختوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی پرسکون زندگی، یہ سب آپ کو احساس دلاتے ہیں کہ موجودہ ہنگامہ خیز دنیا میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں حقیقی طور پر ایک ’’جنت‘‘کا گمان ہوتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے وادی ہنزہ اور چین کا بھی قدیم تعلق ہے۔وادی ہنزہ کے بلتت قلعے پر موجود ریکارڈ کے مطابق ’’ 1889 اور 1891 کے درمیان برطانوی فوج نے وادی ہنزہ پر حملہ کیا تو شہزادہ صفدہ خان کئی ہزار لوگوں کے ہمراہ سنکیانگ چلے گئے‘‘۔ لہذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ جب مقامی پہاڑی لوگ چینی سیاحوں کو دیکھتے ہیں، تو کہتے ہیں، 200 سال پہلے، ہم ایک خاندان تھے، اور اب بھی ہم بھائی بھائی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں