گوگل نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کرنے پر 28 ملازمین کو برطرف کردیا۔

“امریکا میں گوگل نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ معاہدے کے خلاف احتجاج کرنے والے 28 ملازمین کو برطرف کردیا۔”
امریکی جریدے “بلومبرگ” کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے اسرائیل کی صہیونی حکومت کو مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سروسز فراہم کرنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنی ایمیزون کے ساتھ 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ ملازمین کا خیال ہے کہ کمپنی اسرائیل اور فلسطینیوں کی مدد کے لیے ایسا کر رہی ہے، 16 اپریل کو نیویارک سٹی، سیئٹل اور سنی ویل، کیلیفورنیا میں گوگل کے دفاتر پر مظاہرے، احتجاج اور دھرنے ہوئے، جو 10 گھنٹے تک جاری رہے۔
مظاہرین نے گوگل سے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ گوگل نے کہا کہ دیگر ملازمین کے کام میں خلل ڈالنا کمپنی کی پالیسیوں کے خلاف ہے اور اس واقعے کی تحقیقات کے بعد کمپنی کے 28 ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے اور وہ مزید تحقیقات جاری رکھیں گے اور ضروری کارروائی کریں گے۔یاد رہے کہ اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ غزہ میں اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا تھا۔ پچھلی رپورٹس کے مطابق اسرائیل چہرے کی شناخت کا جدید ترین سافٹ ویئر استعمال کر رہا ہے اور کسی بھی انسان کے جذبات کا پتہ لگا سکتا ہے۔
اس سے قبل گوگل نے 9 مارچ 2024 کو نیویارک میں کمپنی کی جانب سے منعقدہ اسرائیلی ٹیکنالوجی ایونٹ کے دوران فلسطین کے حق میں نعرے لگانے والے سافٹ ویئر انجینئر کو نوکری سے نکال دیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 33,899 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں اور 76,664 زخمی ہوئے ہیں۔