اسلام آباد میں کنزرونسی چارجز میں بے ضابطگیاں: سٹال ہولڈرز کے الزامات
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن (ڈی ایم اے) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بازارز کامران رضا منگی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کے مختلف ہفتہ وار بازاروں میں سٹال ہولڈرز کو کنزرونسی چارجز کی ادائیگی میں رکاوٹ کا انکشاف، رکاوٹ کا مقصد مبینہ طور پر بھاری نذرانے کے عوض نئے سٹال ہولڈرز کو سٹال الاٹ کرنا ہے۔
، ذرائع کے مطابق ‘تعاون نہ کرنے والے سٹال ہولڈرز کے لئے کنزرونسی چارجز کی ادائیگی کے عمل کو جان بوجھ کر پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔ متاثرین کا الزام ہے کہ انہیں بارہا دفتر بلایا جاتا ہے، گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے اور صرف ایک واؤچراجراء کیلئے غیر ضروری مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کنزرونسی چارجز جیسے سیدھے سادے معاملے میں غیر ضروری رکاوٹیں ڈال کر ان سے غیر قانونی طور پر پیسے لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سٹال ہولڈر اس غیرقانونی مطالبے کو پورا نہ کرے تو اس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی جاتی ہے، جس سے روزگار کے ذرائع متاثر ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مال پانی نہ دینے والے سٹال ہولڈرز کی کنزرونسی فیس جمع ہی نہیں کرانے دی جاتی اور بعد ازاں کاغذات میں انہیں ڈیفالٹر ظاہر کرتے ہوئے بینر بنوا لئے جاتے ہیں۔
جنہیں بازار میں نصب ہی نہیں جاتا اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ سٹال ہولڈر کو پتہ چلتا ہے کہ اس کا سٹال کینسل کر کے نئے سٹال ہولڈر کو الاٹ کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ مال بنانے کا یہ طریقہ کافی کامیاب جا رہا ہے، متعلقہ عملہ اور افسر اس طریقہ کار سے بھرپور طریقے سے مستفید ہو رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے دکانداروں اور سٹال ہولڈرز کو سہولت پہنچانے اور شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے لئے اتوار بازاروں کا ایک اور مقصد ریونیو اکٹھا کرنا بھی ہے تاکہ اسے عوام کی فلاح و بہبود اور بازاروں کے انتظامات پر خرچ کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا فیسیں اور چارجز وصول کرنے کے عمل کو آسان بنایا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا ہو لیکن ان بازاروں کے معاملے میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ فیس جمع کرانے والوں کو پہلے ڈی ایم اے آفس جا کر واؤچر بنوانا ہوتا ہے اور بعد میں بینک جا کر فیس جمع کرانی ہوتی ہے یوں من پسند سٹال ہولڈرز کو واؤچر جاری کر دئیے جاتے ہیں اور مٹھی گرم نہ کرنے والے سٹال ہولڈرز کا پتہ صاف کر دیا جاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام تک شکایات پہنچائی جاتی ہیں مگر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا بلکہ شکایت کنندہ کے خلاف کاروائی ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا تمام معاملہ اعلیٰ حکام علم میں ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کی جاتی، تو یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منظم منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔روزنامہ بیٹھک کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق، ایسی شکایات اسلام آباد کے تمام بازاروں بشمول آئی-9، جی-10، جی-6، ایچ-9 اور بھارہ کہو سے موصول ہوئیں جہاں روزانہ سینکڑوں شہری اپنی روزی روٹی کے لیے ان سٹالز پر انحصار کرتے ہیں۔
ڈی ایم اے میں موجود ذرائع کے مطابق ان بازاروں میں انتظامیہ کے غیر منصفانہ روئیے کا اثر نہ صرف عام شہریوں بلکہ ریاستی ریونیو پر بھی پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب دنیا بھر میں ریونیو سسٹمز کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے، تو ڈی ایم اے جیسے اداروں کا اب بھی دستی اور مبینہ طور پر استحصالی طریقہ اختیار کرنا ریاستی مشینری کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جبکہ متعلقہ حکام کی خاموشی ان الزامات کو مزید تقویت دیتی ہے۔سٹال ہولڈرز نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی ایک انکوائری کمیٹی سے فوری انکوائری کرائی جائے۔
جو نہ صرف ان الزامات کی چھان بین کرے بلکہ ان تمام سٹال ہولڈرز کو بھی سنا جائے جو اس استحصالی نظام کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس نظام کو درست نہیں کیا جاتا، اسلام آباد کے ہزاروں چھوٹے کاروباری افراد غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔
اس سلسلے میں جب اسسٹنٹ ڈائریکٹر بازارز کامران رضا منگی کا موقف جانے کے لئے رابطہ کیا گیا تو ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔کامران رضا منگی کو بھیجے گئے میسج میں پوچھا گیا کہ آخر کیوں سٹال ہولڈرز کو بینک میں براہ راست ادائیگی کی اجازت نہیں دی جاتی اور دفتر سے ووچر جاری کروانا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ان سے پوچھا کیا گیا کنزرونسی چارجز جیسے معمولی معاملے میں اس قدر تاخیر اور غیر شفافیت کیوں پائی جاتی ہےاسی طرح روزنامہ بیٹھک نے ڈائریکٹر ڈی ایم اے ڈاکٹر انعم فاطمہ اور سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن طلعت محمود سے بھی موقف کے لئے رابطہ کیا گیا مگر ان کی جانب سے بھی کوئی جواب موصول نہ ہوا۔
یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں