کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں سمگلنگ کا دھندہ ایک بار پھر عروج پر
ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر)کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں سمگلنگ کا دھندہ ایک بار پھر عروج پر پہنچ گیا ہے۔
، جہاں روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر نان کسٹم اشیا پنجاب کے مختلف علاقوں میں منتقل کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بارڈر ملٹری پولیس، پنجاب پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارروائیاں صرف کاغذی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
، جبکہ سمگلرز کھلے عام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سمگلنگ میں ملوث عناصر ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیوز اپ لوڈ کر کے مختلف سونگ لگا کر انتظامیہ اور فورسز کا مذاق اڑاتے ہیں۔
ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف قبائل اور قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد پہاڑوں کو کراس کر کے بڑی مقدار میں سمگل شدہ سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔
سمگلنگ کے اس نیٹ ورک میں کوہِ سلیمان کے دشوار گزار راستوں کو استعمال کرتے ہوئے سگریٹ، گٹکا، الیکٹرانک سامان، نان کسٹم گاڑیاں اور چوری شدہ موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔
، جو بڑے گوداموں، گھروں اور بیٹھکوں میں ذخیرہ کی جاتی ہیں۔ بعد ازاں یہ سامان ڈیرہ غازیخان تونسہ شریف، کوٹ مبارک اور دیگر علاقوں کے ذریعے پنجاب کے مختلف شہروں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگر بعض چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت نہ ہو تو نان کسٹم سامان کا پنجاب تک پہنچنا ممکن نہیں۔
بارڈر ملٹری پولیس، پنجاب پولیس، پٹرولنگ پولیس، ایکسائز اور نان کسٹم کاروں کی مبینہ شمولیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سمگل شدہ اشیا ڈیرہ غازی خان کی مختلف دکانوں میں سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔
، مگر ضلعی انتظامیہ عملی کارروائی کے بجائے صرف رپورٹس اور فائلوں تک محدود ہے۔
اس حوالے سے بارڈر ملٹری پولیس کے کمانڈنٹ امیر تیمور خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوہِ سلیمان کا علاقہ طور پر انتہائی مشکل اور وسیع ہے۔
خبر کی تفصیل کے لیے لنک پر کلک کریں۔