توانائی بحران شدت اختیار کرگیا، ایل این جی درآمد معطل

ایل این جی کی درآمد معطل ، بجلی کی روزانہ 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ متوقع

آف گرڈ اور نیٹ میٹرنگ سولرائزیشن نے ملک کو توانائی بحران کی شدت سے تو بچا لیا ہے لیکن ایل این جی کی درآمد معطل ہونے کے باعث بجلی کی روزانہ دو سے تین گھنٹے لوڈشیڈنگ ہونے کا امکان ہے۔
امریکا ایران اسرائیل جنگ سے قیمتوں میں اضافے کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی کی پیداواری لاگت 80 روپے فی یونٹ سے تجاوز کرگئی ۔
حکومت نے ڈیزل سے بجلی پیدا نہ کرنے کا فیصلہ متوقع ہے۔ فرنس آئل پر پاور پلانٹس کو صرف پیک آورز میں ہی چلایا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث قطر سے آر ایل این جی کی سپلائی بند ہونے کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے۔
حکومت کو بجلی کی روزانہ 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنا پڑ سکتی ہے۔ ذرائع کےمطابق پاور سیکٹر 10سے15فیصد درآمدی ایل این جی استعمال کرتا تھا ۔
اپریل میں پاورپلانٹس کو گیس کی فراہمی کم ہوکر صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی رہ جائے گی ۔
مارچ میں یومیہ 150ایم ایم سی ایف گیس فراہم کی جا رہی تھی ۔ سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی مکمل بند اور کھاد کے کارخانوں کو کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔

خبر کی تفصیل کے لیے لنک پر کلک کریں۔