پمز نرسری میں بچوں کی تعداد پر نیا انکشاف، 40 سے 50 نومولود موجود تھے: ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ

Super Admin


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں 15 نہیں بلکہ 40 سے 50 نومولود بچے موجود تھے۔میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے بتایا کہ پمز اسپتال کے دورے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ نرسری میں بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ بچے زیرِ علاج تھے اور وہاں درجنوں نومولود موجود تھے۔
سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام ضروری ہے، اس کے بغیر انکوائری کو مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ادھر پمز اسپتال میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی یاد میں اسپتال کے داخلی راستوں پر شمعیں روشن کی گئیں۔
، جہاں لوگوں نے جاں بحق بچوں کے لیے افسوس اور اظہارِ یکجہتی کیا۔حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے بھی پمز چلڈرن وارڈ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پمز سانحے پر پورا پاکستان غمزدہ ہے، تاہم انہیں اور ان کی بیٹی کو وارڈ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مشعال ملک نے الزام عائد کیا کہ 2005 میں پمز اسپتال میں ان کے والد کو مبینہ طور پر غلط دوا دی گئی تھی۔ ان کے مطابق موجودہ سانحہ بھی انسانی غفلت کا نتیجہ ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے وزیر صحت سے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.