سندھ طاس معاہدہ خطے کے امن و استحکام کیلئے اہم ہے، اسحاق ڈار

Super Admin


واشنگٹن: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا اہم قانونی فریم ورک ہے، جس کی علاقائی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے خاص اہمیت ہے۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے زیرِ اہتمام سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی انسانی زندگی، غذائی ضروریات اور معاشی تحفظ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ریاستوں کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم عالمی قوانین کے تحت ہی ممکن ہے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 سے سندھ طاس معاہدہ نافذ ہے، جبکہ عالمی بینک اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت دریائے راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کو استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے، جبکہ پاکستان دریائے سندھ، جہلم اور چناب سے استفادہ کر سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں سے متعلق معاملات کے لیے انڈس واٹر کمیشن بھی فعال ہے اور آبی تنازعات کے حل کے لیے معاہدے میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کے ذریعے پیچیدہ معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت کے عوام اپنی ضروریات کے لیے ان دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔
 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.