آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے: چیف جسٹس امین الدین خان
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کو اپنے اختیارات استعمال کرتے وقت آئین کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنانا چاہیے، کیونکہ آئینی اصولوں کی پابندی ہی معاشرے میں استحکام اور مضبوط نظام کی ضمانت ہے۔وفاقی آئینی عدالت میں عدالتی سال 2026-27 کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ نئے عدالتی سال کا آغاز انصاف کی فراہمی کے عزم کو تازہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ان کے مطابق وفاقی آئینی عدالت آئینی معاملات سے متعلق اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر رہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئین نے ریاستی اداروں کے اختیارات اور ان کی حدود واضح طور پر متعین کر رکھی ہیں، لہٰذا کسی بھی سطح پر اختیارات کے استعمال کے دوران آئینی تقاضوں سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس امین الدین خان نے عدالتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے مختصر عرصے کے دوران کئی اہم مقدمات کے فیصلے کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال عدالتی اداروں کی کارکردگی، استعداد اور شفافیت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لیے بلاامتیاز اور منصفانہ آئینی انصاف کی فراہمی کو عدالتی نظام کی اولین ترجیح بنانا ضروری ہے۔انہوں نے عدلیہ کی آزادی کو کسی بھی مستحکم معاشرے کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز اور دیگر متعلقہ ادارے وفاقی آئینی عدالت کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جسٹس امین الدین خان نے مزید کہا کہ بیرون ملک دوروں اور مختلف پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ذریعے عدالتی شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ مقدمات کی سماعت کے لیے تقرریاں میرٹ، شفافیت اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی جاتی ہیں۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.