آج کا اخبار پڑھیں ای پیپر

بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا مقدمہ سپریم کورٹ سے آئینی عدالت منتقل کرنے کا حکم

Super Admin


اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق مقدمہ سپریم کورٹ سے منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی اور توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔وفاقی آئینی عدالت میں قیدیوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی طرز پر نجی اسپتال سے علاج کی اجازت دینے سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان بھی عدالتی معاونت کے لیے پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق مقدمہ وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت اپنے دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے متعلقہ مقدمے کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے تین قیدیوں کی درخواستیں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات قابلِ غور ہیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر کسی ہائیکورٹ میں اسی نوعیت کا مقدمہ زیرِ التوا ہے تو اس کا ریکارڈ بھی عدالت کو بھجوایا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 175-ای کی ذیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کسی بھی عدالت سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئین اور قانون کا اطلاق امیر اور غریب دونوں پر یکساں ہونا چاہیے۔ 
عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں اس معاملے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا؟اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اعتراض کیا تھا، تاہم ان کے مطابق نوٹس جاری کیے بغیر حکم دے دیا گیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ کو پہلے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صورتحال ایسی ہی ہے اور آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف یہاں آیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا حکم فی الحال عبوری نوعیت کا ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بنیادی سوال دائرہ اختیار کا ہے، یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کی سماعت کا اختیار اب کس عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.