امریکا ایران تنازع، ثالث ممالک کی دونوں فریقوں سے الگ الگ بات چیت متوقع
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالث ممالک کے نمائندوں کی دونوں فریقوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں اور مذاکرات متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق ثالث ممالک کے نمائندے واشنگٹن اور تہران کے حکام سے الگ الگ رابطے کریں گے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بالواسطہ سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطری ثالث بھی سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق سات روزہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق تہران نے اپنی شرائط اور تجاویز ثالثی کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں اور اب امریکی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ امریکا ایرانی نمائندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس وقت کسی براہِ راست ملاقات کا حتمی شیڈول طے نہیں ہوا۔ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کے تحت واشنگٹن کی جانب سے فوجی دباؤ میں کمی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کیے جانے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے بجائے ثالثوں کے ذریعے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قطر سمیت دیگر ممالک سفارتی ذرائع سے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.