مصنوعی ذہانت سے نوجوانوں کی نوکریاں متاثر ہونے کا خدشہ، ٹیکس نظام میں بھی تبدیلی متوقع: آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ مستقبل میں حکومتی ٹیکس وصولی کے نظام میں بھی تبدیلیاں ناگزیر ہوسکتی ہیں۔کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق مصنوعی ذہانت کے عالمی معیشت پر اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کو تقریباً 3 فیصد پر برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔آئی ایم ایف کی سربراہ نے نشاندہی کی کہ مصنوعی ذہانت کے فروغ سے عالمی معیشت میں سرمایہ کاری اور طلب کے رجحانات تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے اثرات مختلف شعبوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال روزگار کے مواقع اور حکومتی آمدنی کے ذرائع کو متاثر کرسکتا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں کی ملازمتوں پر اس کے ممکنہ اثرات تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق اے آئی کے پھیلاؤ کے ساتھ حکومتوں کو اپنے ٹیکس وصولی کے طریقہ کار پر بھی نظرثانی کرنا پڑسکتی ہے، کیونکہ معیشت اور کاروباری سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلیاں روایتی محصولات کے نظام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کرسکتی ہیں۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.