عالمی تیل کے ذخائر بحال ہونے میں دو سال لگنے کا امکان، آرامکو کے سربراہ کا انتباہ
سعودی عرب کی تیل کمپنی آر امکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی متاثر رہنے اور بحران میں مزید شدت آنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہونے تک عالمی منڈیوں میں تیل کی رسد دباؤ کا شکار رہے گی۔
آرامکو کے سربراہ کے مطابق خام تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کی تلاش جاری ہے، جبکہ بیرونِ ملک تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کے ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں تقریباً دو سال لگ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیل کی بڑی مقدار فی الحال فوری استعمال کے لیے دستیاب نہیں، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔آرامکو کے سربراہ نے بتایا کہ ہنگامی تیل کے ذخائر کم ہو کر چھ ارب بیرل سے بھی خاصے نیچے آچکے ہیں۔ یہ ذخائر ممکنہ قلت کی صورت میں عالمی منڈیوں کو سہارا دینے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے خام تیل کی فراہمی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی تک عالمی توانائی منڈی کو غیر یقینی صورتِ حال اور رسد سے متعلق مشکلات کا سامنا رہنے کا خدشہ ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.