امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی، ری پبلکنز کو دھچکا
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، جبکہ ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے نمایاں برتری حاصل کرلی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس اب تک 46 نشستیں جیت چکے ہیں، جبکہ ری پبلکنز کو 36 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ اسی طرح 218 نشستوں پر مشتمل ایوانِ نمائندگان کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس نے 118 اور ری پبلکنز نے 66 نشستیں حاصل کی ہیں۔
گورنرز کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے، جہاں ان کے امیدواروں نے 15 نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ ری پبلکنز کے حصے میں 10 نشستیں آئی ہیں۔
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر کی کامیابی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کی ممکنہ فتح کو ڈیموکریٹس کے لیے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے۔ مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے میدان میں موجود مسلمان ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کو بھی برتری حاصل ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق انہیں 55.2 فیصد ووٹ ملے ہیں، جبکہ ان کے ری پبلکن حریف راجرز 42.2 فیصد ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔
ابتدائی انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ پارٹی کے متعدد اہم رہنماؤں نے اپنی نشستیں برقرار رکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ مجموعی طور پر ان نتائج کو ری پبلکنز کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.